فتنہ خفتہ را مکن بیدار
سوتے راڑ نہ جگاؤ
کافر ھمہ را بہ کیش خود پندارد
ساون کے اندھے کو ہرا ہی سوجھتا ہے
در درپای خوکان مریز
سیٹھ کیا جانے صابن کا بھاؤ
جواب ابلھان خاموشی است " قابوسنامہ"
سب سے بھلی چپ
حرف حق تلخ است
سچ بات کڑوی لگتی ہے
تیر از کمان چو رفت نیاید بہ شست باز
سانپ نکل گیا لکیر پیٹا کرو
عاقبت گرگ زادہ گرگ شود ”سعدی"
سانپ کا بچہ سنپولیا
کاھلی کافریست
سستی مفلسی کی ماں ہے
نابردہ رنج گنج میسر نمی شود "سعدی"
سیوہ بن میوہ کہاں
حبذا خانۂ خود گرھمہ گلخن باشد
سب کو اپنا وطن عزیز ہے
یا سر می رود یا کلاہ می آید
سر نہیں یا سروہی نہیں
