مار گزیدہ از ریسمان سیاہ وسفید می ترسد
دودھ کا جلا چھاچھ بھی پھونک پھونک کر پیتا ہے
دوست آن باشد کہ گیرد دست دوست/ در پریشانحالی و درماندگی
دوست وہ جو اڑے وقت کام آۓ
از مار نزاید جز مار بچہ
درخت اپنے پھل سے پہچانا جاتا ہے
دیوار موش دارد موش ھم گوش دارد
دیوار کے بھی کان ہوتے ہیں
آدم بہ امید زندہ است
دنیا بہ امید قائم
آفتابہ خرج لحیم
دمڑی کی بڑھیا ٹکا سر منڈائ
قرض مقراض محبت است
ادھار محبت کی قینچی ہے
شنید ن کی بود مانند دیدن
دیکھنا سو پیکھنا
دیر آی و شیر آی
دھیرا سو گھنیرا
آشپز کہ دو تا شد آش یا شور است یا بی مزہ
دو ملاؤں میں مرغی حرام
